نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے ضلع جبل پور میں دریائے نرمدا یں کشتی الٹنے کے افسوسناک واقعے میں 28 افراد کو بچا لیا گیاجبکہ 9 افراد کی نعشیں نکال لی گئی ہیں۔ اس حادثے سے چند لمحے پہلے سیاحوں کی چیخ و پکار کی ویڈیو اب
منظرِ عام پر آئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کشتی میں پانی داخل ہونے کے باعث مسافر شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئے تھے۔کشتی کے زور دار جھٹکوں کے دوران عملہ مسافروں کو لائف جیکٹس دینے کے لیے سامان کھول رہا
تھا تاہم متاثرین کا الزام ہے کہ کشتی میں سوار ہوتے وقت ہی لائف جیکٹس فراہم نہیں کی گئیں جو عملے کی غفلت کو ظاہر کرتا ہے اور اسی وجہ سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔حادثے سے قبل ایک خاتون مرینا اپنے بیٹے تریشان کو گلے
سے لگائے ہوئے نظر آتی ہیں۔ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی ڈوبنے کے بعد جب ان کی نعشیں نکالی گئیں تو وہ اب بھی اپنے بچے کو اسی طرح سینے سے لگائے ہوئے تھیں اس منظر نے تمام کو اشکبار کر دیا۔ مرینا کے شوہر اس
حادثے میں زندہ بچ گئے۔حکام کے مطابق جائے حادثہ پر شدید بارش کے باعث جمعہ کی شام ریسکیو آپریشن روک دیا گیا تھا، جسے ہفتہ کی صبح 5 بجے دوبارہ شروع کیا گیا۔دوسری جانب متاثرین نے الزام لگایا کہ حادثہ شام 6:15 بجے
پیش آیا، لیکن امدادی ٹیمیں 6:40 بجے تک روانہ نہیں ہو سکیں۔ تاہم ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان کی گاڑی خراب ہونے کے باعث تاخیر ہوئی۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی ماہی گیروں اور کسانوں نے 15 سے زائد سیاحوں کو بچا لیا
جبکہ امدادی ٹیمیں تقریباً 7 بجے موقع پر پہنچیں۔اس افسوسناک واقعے کے بعد مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے ریاست بھر میں تمام کروز سرگرمیوں، موٹر بوٹ سروسز اور واٹر اسپورٹس کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات
جاری کیے ہیں۔ واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کروز پائلٹ مہیش پٹیل، معاون چھوٹے لال گونڈ اور ٹکٹ کاؤنٹر انچارج برجندر کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے
جبکہ بوٹ کلب کے منیجر سنیل مراوی کو معطل کر دیا گیا ہے۔

