ایران کے ساتھ معاہدے کے بغیر آبنائے ہرمز نہیں کھل سکتی، ماہر توانائی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق توانائی اور تیل کے ماہر ڈاکٹر ممدوح سلامہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت کے بغیر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا ممکن نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی صرف ایک دھمکی نہیں بلکہ اس میں متعدد خطرات شامل ہیں جو براہِ راست عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتے ہیں۔

مصری ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سلامہ نے وضاحت کی کہ سمندری بارودی سرنگیں اس وقت سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہیں، کیونکہ یہ تیل بردار جہازوں اور تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ بنتی ہیں، جس سے توانائی کی ترسیل متاثر ہوتی ہے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ کسی سمجھوتے کے بغیر آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی ممکن نہیں، کیونکہ ایران اس آبنائے کو اپنے سیاسی مطالبات کے حصول کے لیے ایک مضبوط اسٹریٹجک دباؤ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا بھی ایران کے ساتھ مفاہمت کے بغیر اس آبنائے کو مکمل طور پر کھولنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، کیونکہ تہران اس گزرگاہ کو ایک قسم کے اقتصادی ایٹمی ہتھیار کے طور پر دیکھتا ہے جسے وہ بیرونی دباؤ یا محاصرے کو توڑنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر سلامہ نے مزید کہا کہ اگرچہ یورپی ممالک ایران کے ساتھ براہ راست جنگ میں شامل نہیں ہیں اور اسے اپنی جنگ نہیں سمجھتے، لیکن توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ کے باعث وہ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے فریق بن سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں یورپ کی کسی بھی ممکنہ عسکری کارروائی کو براہ راست خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوجائے گی اور بحران پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل خام تیل گزرتا ہے جو عالمی سطح پر مائع تیل کی کھپت کا تقریباً 25 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ مائع قدرتی گیس (LNG) کی عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔

یہ آبنائے خلیج فارس کو بحیرۂ عمان سے ملاتی ہے اور سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران جیسے ممالک کے لیے تیل کی برآمدات کی ایک حیاتیاتی شاہراہ کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ فوری طور پر عالمی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرتی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *