انہوں نے کہا کہ شہر کے تمام 31 مانیٹرنگ اسٹیشن عالمی معیار سے اوپر ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 29 اسٹیشن ہندوستان کے قومی معیارات سے بھی تجاوز کر گئے۔ ان کے مطابق سب سے زیادہ آلودگی جہانگیر پوری میں ریکارڈ کی گئی جہاں سطح 110 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی، جو عالمی حد سے سات گنا زیادہ ہے۔
اجے ماکن نے اپنے بیان میں گزشتہ دن کے مقابلے میں معمولی بہتری کا ذکر کیا، مگر اسے حکومتی پالیسی کا نتیجہ ماننے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوا کے تیز جھونکوں کی وجہ سے آلودگی میں عارضی کمی آئی ہے، کیونکہ اپریل کا موسم ایسا ہوتا ہے جب مغربی ہوائیں آلودہ ذرات کو منتشر کر دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہوا چلتی ہے تو دہلی سانس لے پاتی ہے لیکن جیسے ہی یہ رکتی ہے، آلودگی دوبارہ خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہے۔
