خصوصی رپورٹ
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران اسرائیل نے غزہ کے بعد اب جنوبی لبنان کی جانب اپنی حکمت عملی کا رخ موڑ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے غزہ کے تقریباً 55 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اب جنوبی لبنان میں بھی ’بفر زون‘ قائم کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
لبنان نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل اپنے شمالی سرحد سے لے کر دریائے لیتانی تک کے علاقہ کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی دوران جب عالمی توجہ ایران کے ساتھ کشیدگی پر مرکوز ہے، اسرائیل لبنان کے مختلف علاقوں خصوصاً دارالحکومت بیروت پر شدید حملے کر رہا ہے، جن میں اب تک 1100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل کی کارروائیاں صرف جزب اللہ تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ جنوبی لبنان پر قبضے کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے لئے ’لیتانی منصوبہ‘ پر عمل کیا جا رہا ہے۔ لبنان حکومت کو خدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ملک کا 10 سے 15 فیصد علاقہ کھونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
’لیتانی منصوبہ‘ کیا ہے؟
دریائے لیتانی مکمل طور پر لبنان میں بہتا ہے اور اسرائیل کی شمالی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں حزب اللہ کی موجودگی ختم کر کے اسے دریائے لیتانی کے پار محدود کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے اسرائیل حزب اللہ کے ٹھکانوں، پلوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر ایک سیکیورٹی زون قائم کرنا چاہتا ہے۔
لبنان کے صدر نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اسرائیل جنوبی لبنان کو مستقل طور پر اپنے قبضے میں لینے کی سازش کر رہا ہے۔
اسرائیل کا مقصد کیا ہے؟
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں 1200 افراد کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اسی طرح کے حملے شمالی سرحد پر حزب اللہ کی جانب سے بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے اسرائیل چاہتا ہے کہ حزب اللہ کو دریائے لیتانی کے پار دھکیل دیا جائے تاکہ اس کے شہری محفوظ رہ سکیں۔
حزب اللہ کی کارروائیوں کے باعث شمالی اسرائیل سے تقریباً 60 سے 80 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیر فینانس نے حال ہی میں کہا کہ دریائے لیتانی کو ہی نیا سیکیورٹی بارڈر بنایا جانا چاہیے۔
لبنان حکومت مشکل میں
لبنان حکومت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے، ایک طرف اسرائیلی حملے ہیں تو دوسری جانب حزب اللہ کی سرگرمیاں۔ بیروت حکومت نہ تو اسرائیل کو روک پا رہی ہے اور نہ ہی حزب اللہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکی ہے۔ حالیہ دنوں میں لبنان نے مذاکرات کی پیشکش بھی کی، تاہم اسرائیل نے اسے نظرانداز کرتے ہوئے حملے جاری رکھے ہیں۔
