جنگ کا بائیسواں دن؛ مقبوضہ علاقوں کے قلب اور پانچویں بحری بیڑے پر حملہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک اطلاعیے میں آپریشن وعدہ صادق 4 کی 71 ویں لہر میں امریکی-صیہونی اہداف کو انتہائی وزنی میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی خبر دی ہے۔

اس بیانئے میں آیا ہے کہ اے شریف ایرانی قوم! عید الفطر اور نوروز کی مبارک عیدیں مبارک ہوں۔ قوم کے مجاہد سپاہیوں کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ نئے سال کے پہلے گھنٹوں میں اور آپریشن وعدہ صادق 4 کی 71 ویں لہر میں، خداوند متعال کی مدد سے یا صاحب الزمان کے رمز کے تحت، امریکی-صیہونی تھکے ہارے اور نڈھال دہشت گرد فوج پر کاری ضرب وارد کریں۔

تیز رفتار اور متواتر کارروائی میں، پچھلی لہر کے حملوں کے فوراً بعد، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے قلب تل ابیب اور دیگر شہروں میں واقع نقاط کو انتہائی وزنی اور نقطہ زن عماد میزائل کے علاوہ متعدد وارہیڈز والے بھاری قدر میزائلوں اور تباہ کن ڈرونز سے نشانہ لیا گیا۔

سپاہ پاسداران کی فضائیہ کے اہداف کے بینک میں موجود امریکی دہشت گرد فوج کے اڈے علی السالم، الخرج اور وکٹوریہ کو بھی کئی بار حملہ آور ڈرونز اور بھاری میزائلوں کے ذریعے تباہ کیا گیا۔

سپاہ پاسداران کے انٹیلیجنس اور عملیاتی کمانڈروں نے جنگ کے پہلے تین ہفتوں میں دشمن کے زد میں آنے والے مقامات کی مکمل نگرانی، جانچ اور شناخت کے بعد، نئے حملہ آور حربوں اور زیادہ جدید سسٹمز کو جنگ کے میدان میں نئی کاروائیوں کے لیے اتار دیا ہے۔ جس کی وجہ سے دشمن کے لیے جنگ کا دائرہ پہلے سے زیادہ تنگ اور سخت ہوتا جا رہا ہے۔

صہیونی فوج کا اعتراف: ایران میں جنگی طیارہ نشانہ بنا ہے

صہیونی فوج کے ترجمان نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس کے ایک جنگی طیارے کو ایران کی مسلح افواج کے دفاعی نظام نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ یہ طیارہ ایران میں کارروائی اور تہران کے مختلف مقامات پر حملے کے لیے مقبوضہ فلسطین میں قائم فضائی اڈوں سے پرواز کر کے آیا تھا۔

صہیونی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس طیارے کے پائلٹ محفوظ ہے۔

بیان کے آخر میں ترجمان نے اعتراف کیا کہ حالیہ جنگ کے آغاز سے اب تک کئی مرتبہ صہیونی فوج کے جنگی طیارے ایران کے دفاعی نظام کی جانب سے شناخت کیے گئے اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنائے گئے۔ تاہم ایک غیر معمولی اقدام میں ترجمان نے اس طیارے کے ماڈل کا ذکر کرنے سے گریز کیا۔

صہیونی فوج کے جنگی طیاروں کی ایران کے دفاعی نظام کے ذریعے شناخت اور تعاقب اس وقت ہو رہا ہے جب یہ فوج بارہا دعویٰ کر چکی ہے کہ اس کے طیارے ریڈار سے پوشیدہ ہیں اور انہیں شناخت یا ٹریک نہیں کیا جا سکتا۔ مزید برآں، 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت پہلے ایک امریکی ایف-35 طیارہ، ایران کے دفاعی میزائل کے نشانہ بننے کے بعد، پسپائی اختیار کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطین واپس جانے اور فضائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنے پر مجبور ہو گیا۔

دشمن کا تیسرا جنگی طیارہ بھی مار گرایا گیا

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے اعلان کیا ہے کہ دشمن کا تیسرا جنگی طیارہ، جو صہیونی حکومت سے تعلق رکھتا تھا اور F-16 نوعیت کا تھا، آج 3 بج کر 45 منٹ پر ایران کے مرکزی علاقے میں سپاہ کی فضائیہ کے جدید دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

جنگ کے ابتدائی تین ہفتوں کے دوران 200 سے زائد فضائی اہداف، جن میں ڈرون، کروز میزائل، ایندھن بردار طیارے اور انتہائی جدید جنگی طیارے شامل ہیں، کی کامیاب نشاندہی اور تباہی اس بات کی علامت ہے کہ ایران اور خطے کی فضا میں دراندازوں کی نگرانی اور تعاقب کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے اور ملک کے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *