آیت اللہ سیستانی کی ایران پر حملوں کی شدید مذمت: علاقے اور دنیا کے لیے خطرناک نتائج کی وارننگ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمی سیستانی کے دفتر نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ خطے اور پوری دنیا کے لیے بہت خطرناک نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

الفرات نیوز کے مطابق، آیت اللہ سیستانی کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی سرزمین پر کئی روز سے جارحیت جاری ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے بہادر محافظوں سمیت سینکڑوں معصوم شہریوں اور بچوں کی شہادت ہوئی ہے۔ فوجی کارروائیوں کا دائرہ کار کئی ممالک تک پھیل چکا ہے جس کے باعث دیگر ممالک کے بہت سے علاقے اور تنصیبات ایسی صورتحال سے دوچار ہوئیں جو طویل عرصے سے اس خطے میں نہیں دیکھی گئی تھیں۔

آیت اللہ سیستانی کے دفتر نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے کسی رکن ملک پر سلامتی کونسل سے بالاتر مخصوص شرائط لاگو کرنے یا اس کے سیاسی نظام کو گرانے کے مقصد سے، یکطرفہ جنگ کا فیصلہ بین الاقوامی منشوروں کی خلاف ورزی کے علاوہ ایک خطرناک اقدام ہے۔ یہ اقدام علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بہت برے نتائج کا باعث بن سکتا ہے، اور خطرہ ہے کہ اس سے طویل عرصے تک بڑے پیمانے پر افراتفری اور بے چینی پھیلے گی جس سے علاقے کے عوام اور دیگر خطوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

بیان کے آخر میں دفتر آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے اس ظالمانہ جنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں اور دنیا کے حریت پسندوں سے اس کی مذمت کرنے اور مظلوم ایرانی قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی، انہوں نے تمام موثر بین الاقوامی طاقتوں اور بالخصوص اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کو فوری طور پر روکنے اور ایران کے جوہری معاملے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر منصفانہ اور پرامن حل تلاش کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں کریں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *