
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمدباقر قالیباف نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے سامنے تمام آپشن موجود ہیں؛ ہم واضح اور دوٹوک انداز میں امریکیوں سے کہتے ہیں کہ تمام آپشنز میز پر ہیں۔
انہوں نے امریکی صدر کی کانگریس میں سالانہ رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ غلط معلومات کی بنیاد پر غلط تجزیہ اور پھر غلط فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ ماضی کے واقعات کے دوران بھی ایران کے بارے میں گمراہ کن دعوے کیے گئے۔
قالیباف نے الزام عائد کیا کہ حالیہ بدامنی کے پیچھے بیرونی کردار، بالخصوص صہیونی حکومت کی مداخلت کے شواہد موجود ہیں۔ بعض امریکی بیانات براہ راست مداخلت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے امریکی حکام کے ہلاکتوں سے متعلق اعداد و شمار کو بھی غلط قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نہ ماضی میں ایٹمی ہتھیار کا خواہاں رہا ہے، نہ ہے اور نہ ہوگا، اور اس مؤقف کا بارہا سرکاری اور بین الاقوامی سطح پر اعلان کیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود ایران کے خلاف دھمکی آمیز رویہ جاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کی میز پر باہمی احترام اور ایرانی عزت و مفادات کا خیال رکھا جائے تو ایران سفارتکاری کے راستے پر موجود ہے، لیکن اگر مذاکرات کے دوران فریب یا جارحیت کی گئی تو سخت جواب دیا جائے گا۔
قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر دوبارہ کسی جارحانہ اقدام کی کوشش کی گئی تو ایران ایسا ردعمل دے گا جس پر مخالفین کو پشیمانی ہوگی۔ امت مسلمہ اور حریت پسند اقوام بھی امریکہ کے خلاف کھڑی ہوں گی۔
