ایران کے خلاف امریکی دھمکیاں،عراقی حزب اللہ کا سخت ردعمل

 مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق کی مزاحمتی تنظیم کتائب حزب اللہ کے ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں پورا خطہ سنگین خطرے کی لپیٹ میں آجائے گا۔

تنظیم کے سیکیورٹی چیف ابو علی العسکری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں، خطے میں امریکی بحری بیڑوں کی توسیع اور فوجی اڈوں کی مضبوطی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اسلامی جمہوری ایران کے خلاف جارحیت کی تیاری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں دفاعی حکمت عملی نہیں بلکہ دانستہ کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہیں۔ شام کے راستے اور عراق کے کردستان ریجن کے ذریعے ایران پر ممکنہ حملے کی تیاریاں تیز ہو رہی ہیں، جو زمینی کارروائی کی شکل بھی اختیار کرسکتی ہیں۔

ابو علی نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے عراقی سرزمین کو ایران کے خلاف راہداری کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی تو یہ علاقائی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہوگی اور اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے شمالی عراق کی کرد جماعتوں سے مخاطب کرتے ہوئے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور انہیں امریکی عسکری مہم جوئی کا حصہ بننے سے گریز کا مشورہ دیا۔

دوسری جانب عمار الحکیم نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا اور بالواسطہ طور پر جبر پر مبنی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کے ذریعے سیاسی ارادہ مسلط کرنے سے بین الاقوامی قوانین کمزور اور عالمی امن کو خطرات لاحق ہوں گے۔

عمار الحکیم نے مزید کہا کہ کشیدگی سے صرف جنگوں اور بحرانوں کے سوداگر فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ اس کی قیمت خطے کے عوام کو بدامنی اور معاشی مشکلات کی شکل میں چکانا پڑتا ہے۔

انہوں نے ایران کے استحکام کو علاقائی نظم کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اشتعال انگیز بیانات اور تصادم کی طرف دھکیلنے والی مہم جوئی ترک کرے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *