مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے احتجاجی مظاہروں کو بھڑکا کر انہیں ہڑتالوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی تاکہ ایرانی سیاسی نظام پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ مختلف مراحل میں اس مقصد کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔
جنرل خادمی نے کہا کہ مخالف قوتوں نے اپنے ایجنٹس کو سکیورٹی مراکز اور تنصیبات پر حملوں کی ہدایات دیں تاکہ قومی سلامتی کے نظام کو کمزور کیا جا سکے، جیسا کہ گزشتہ سال جون میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کے دوران دیکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی جذبات کو بھڑکانے اور بیرونی فوجی مداخلت کے لیے جواز پیدا کرنے کی غرض سے جعلی ہلاکتوں کا بیانیہ بھی پھیلایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مخالفین نے حکومتی نظام کو معاشی، سماجی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام ظاہر کرنے کی کوشش کی اور حکومت مخالف گروہوں کو نظام کی تبدیلی کے امکان پر قائل کرنے کی کوشش کی۔
جنرل خادمی نے کہا کہ ایران کے بنیادی خدماتی ڈھانچے کے خلاف سائبر حملے اور تخریبی کارروائیاں بھی کی گئیں تاکہ عوام کی روزمرہ زندگی متاثر ہو اور عدم اطمینان پیدا کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاجی عناصر کو دہشت گرد گروہوں سے جوڑنے اور سرحدی علاقوں سمیت ملک کے اندر دہشت گرد نیٹ ورک فعال کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ دشمن قوتوں نے غیر ملکی حمایت حاصل کرنے اور ممکنہ طور پر خصوصی فوجی کارروائیوں کی راہ ہموار کرنے کی بھی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں پر بڑی مقدار میں سرمایہ خرچ کیا گیا اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی گئی، جبکہ سوشل میڈیا گروپس، جرائم پیشہ عناصر اور شدت پسند افراد کو منظم کرنے کی کوشش کی گئی۔
پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس سربراہ نے کہا کہ یہ منصوبہ دشمنوں کی جلد بازی، ایرانی عوام کے اپوزیشن شخصیات پر عدم اعتماد، امریکا اور اسرائیل کے خلاف عوامی جذبات اور داخلی سیاسی اتحاد کے باعث ناکام ہو گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی یکجہتی، حکومتی اداروں کے درمیان تعاون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں نے صورتحال کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے پُرامن مظاہرین اور پرتشدد عناصر میں فرق کرتے ہوئے تخریبی کارروائیوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کیے۔
انہوں نے آخر میں امریکی فوجی دباؤ اور مسلسل دھمکیوں کے مقابلے میں ایرانی مسلح افواج اور سفارتی حلقوں کی کارکردگی کو سراہا۔
