
مہر خبررساں ایجنسی، اقتصادی ڈیسک: ایران میں ہر سال 29 دسمبر کو پیٹروکیمیکل کی صنعت کا قومی دن منایا جاتا ہے۔ پیٹروکیمیکل صنعت ایران کی صنعتی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ پیٹروکیمیکل صنعت کو نان آئل اکنامک کی بنیاد اور قومی خودمختاری کو مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ایران کی پیٹروکیمیکل صنعت کی بنیاد 1950 کی دہائی میں رکھی گئی، جب 1958 میں فارس صوبے میں مرودشت کی کیمیائی کھاد فیکٹری قائم کی گئی۔ اس منصوبے نے تیل و گیس کے شعبے کے ساتھ مربوط صنعتی ترقی کی ضرورت کو واضح کیا۔ اسی ضرورت کے تحت 1963 میں نیشنل پیٹروکیمیکل کمپنی قائم کی گئی، جس نے پیٹروکیمیکل منصوبوں کی منصوبہ بندی، توسیع اور انتظام کو ایک مربوط فریم ورک میں منظم کیا۔
پیٹرو کیمیکل صنعت کی اہمیت
پیٹروکیمیکل صنعت خام تیل اور قدرتی گیس کو متنوع کیمیائی مصنوعات میں تبدیل کرتی ہے، جو جدید صنعت اور روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات کا حصہ ہیں۔ عالمی سطح پر تیل کی پیداوار میں چوتھے اور قدرتی گیس کے ذخائر میں دوسرے نمبر پر ہونے کے باعث ایران اس صنعت کے ذریعے خام وسائل کو زیادہ قیمتی مصنوعات میں بدل کر معیشت کو مضبوط بنا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹروکیمیکل شعبہ خام تیل اور گیس کی فروخت پر انحصار کم کرنے، برآمدات میں تنوع پیدا کرنے اور قومی معیشت کو بیرونی دباؤ کے مقابل زیادہ مستحکم بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ صنعت بنیادی ہائیڈروکاربن خام مال کو متنوع مصنوعات میں تبدیل کرتی ہے، جن میں مختلف اقسام کے پولیمرز، کیمیائی کھادیں اور دیگر کیمیائی مرکبات شامل ہیں۔ یہ مصنوعات ٹیکسٹائل، طب و ادویات، آٹو موبائل صنعت، الیکٹرانکس آلات، گھریلو آلات اور زراعت جیسے زیریں صنعتی شعبوں کے لیے ناگزیر خام مال کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ایران کی ترقی پیٹرو کیمیکل صنعت کا کردار
آج ایران کی پیٹروکیمیکل صنعت قومی تیل صنعت کی ویلیو چین کا مرکزی ستون اور معاشی، سیاسی اور سماجی ترقی کا ایک طاقتور محرک بن چکی ہے۔ یہ شعبہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے اور مزاحمتی معیشت اور پائیدار ترقی کے عملی نمونے کے طور پر سامنے آیا ہے۔
پیٹروکیمیکل شعبے میں آنے والی تبدیلی کی لہر نے نہ صرف خام مواد کی فروخت کو محدود کیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں معاشی قدر میں کئی گنا اضافہ، دولت کی تخلیق اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل وسائل میں ملک کے بے پناہ مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ صنعت قومی اہداف کے حصول کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے، جن میں جدید علمی و تکنیکی صلاحیتوں کا استعمال، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات کی تیاری کی جانب فیصلہ کن پیش رفت شامل ہے۔
اس حکمت عملی کی ایک نمایاں خصوصیت اس شعبے میں موجود غیر معمولی ویلیو ایڈیشن کی صلاحیت ہے۔ تیل اور گیس سے حاصل شدہ ہائیڈروکاربنز پر کیمیائی اور طبعی عمل کے ذریعے حتمی مصنوعات کی قدر خام مال کے مقابلے میں 10 سے 15 گنا تک بڑھ سکتی ہے، جو اس صنعت کی معاشی منطق کا بنیادی نکتہ ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتی حیثیت
عالمی سطح پر کیمیائی صنعت، جس میں پیٹروکیمیکل شعبہ غالب حیثیت رکھتا ہے، حالیہ دہائیوں میں ایک کلیدی صنعت کے طور پر ابھری ہے اور اس وقت خوراک اور آٹو موبائل کے بعد دنیا کی تیسری بڑی صنعت شمار ہوتی ہے۔ ایران کی سرمایہ کاری اور ترقی نے اسے اس اہم عالمی منڈی میں مؤثر مقابلے کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔
قومی یومِ صنعتِ پیٹروکیمیکل کے موقع پر اس شعبے کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوچکا ہے، کیونکہ یہ معیشت کو خام وسائل پر انحصار سے نکال کر علم، ٹیکنالوجی اور صنعتی تنوع پر مبنی ماڈل کی جانب لے جانے کی علامت ہے۔ بیرونی معاشی دباؤ کے تناظر میں پیٹروکیمیکل صنعت کی توسیع، جدید کاری اور باہمی انضمام محض صنعتی اہداف نہیں بلکہ قومی معاشی استحکام کی ناگزیر ضرورت بن چکے ہیں، تاکہ ایران کے وسیع ہائیڈروکاربن ذخائر دیرپا خوشحالی، اعلی درجے کے روزگار اور مضبوط معاشی خودمختاری میں ڈھل سکیں۔
حاصل سخن
یوں 29 دسمبر محض ماضی کی کامیابیوں کی یاد کا دن نہیں بلکہ اس اسٹریٹجک صنعت کو ایران کے صنعتی اور معاشی مستقبل کا فیصلہ کن محرک بنانے کے عزم کی تجدید بھی ہے۔ اسلامی انقلاب کے بعد پیٹروکیمیکل صنعت میں اسٹریٹجک تنوع اور برآمدی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ایک بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔
اندازوں کے مطابق ایران کی تقریباً 70 فیصد پیٹروکیمیکل مصنوعات مختلف عالمی منڈیوں کو برآمد کی جاسکتی ہیں۔ پولیمرز سے لے کر کھادوں تک وسیع مصنوعات پر مشتمل یہ مضبوط برآمدی صلاحیت نہ صرف زرمبادلہ فراہم کرتی ہے بلکہ عالمی پیٹروکیمیکل سپلائی چین میں ایران کے کردار کو بھی مستحکم کرتی ہے، جس سے معاشی سفارت کاری اور بین الاقوامی تجارتی روابط کو تقویت ملتی ہے۔
