12 روزہ جنگ میں ایرانی خواتین نے عزم و استقامت کی نئی تاریخ رقم کر دی، جنرل حاتمی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنرل حاتمی نے بدھ کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے خواتین اور فیملی فریکشن کے اراکین کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی خواتین نے آٹھ سالہ مسلط کردہ ایران_عراق جنگ اور حال ہی میں اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔

جنرل حاتمی کا کہنا تھا کہ مسلح افواج، بالخصوص بری فوج کے جوانوں کی بیویوں اور ماؤں نے ہمیشہ مقدس جنگوں کے دوران جنگجوؤں کو روحانی اور نفسیاتی مدد فراہم کرنے میں موثر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان خواتین کے اقدامات افواج کی جنگی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور استقامت کو برقرار رکھنے میں واضح طور پر نظر آئے۔ اس تقریب میں کوآرڈینیٹنگ ڈپٹی ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری سمیت دیگر اعلیٰ فوجی حکام نے بھی شرکت کی۔

واضح رہے کہ 13 جون 2025 کو جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری مذاکرات جاری تھے، اسرائیل نے ایران کے خلاف کھلی جارحیت کا آغاز کیا۔ اس 12 روزہ جنگ میں فوجی کمانڈروں، جوہری سائنسدانوں اور عام شہریوں سمیت کم از کم 1,064 افراد شہید ہوئے۔ امریکہ نے بھی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر بمباری کر کے اس جنگ میں حصہ لیا۔

ایران کی مسلح افواج نے اس جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے مقبوضہ علاقوں میں اسٹریٹجک مقامات اور قطر میں واقع مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے العدید کو نشانہ بنایا۔ بالآخر 24 جون کو ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف اپنی کامیاب جوابی کارروائیوں کے ذریعے دشمن کو جنگ روکنے پر مجبور کر دیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *