بہار انتخابات کے غیر فطری نتائج؛ ووٹر فہرست، نقد اسکیموں اور کارپوریٹ اثرات کے خطرناک مضمرات

دوسرا اہم پہلو انتخابی مہم کے دوران اور اس سے پہلے بڑی سطح پر نقد اسکیموں اور براہِ راست مالی مراعات کا اعلان اور تقسیم ہے۔ بڑھتے عوامی غصے کو کم کرنے کے لیے تین بڑے اقدامات سامنے لائے گئے: بزرگ اور معذوری پنشن کو 400 سے بڑھا کر 1100 روپے ماہانہ کرنا، 125 یونٹ تک بجلی مفت فراہم کرنا اور سب سے نمایاں 1.5 کروڑ خواتین کو 10 ہزار روپے کی یک مشت ادائیگی۔ یہ اقدام صرف انتخابی فائدے کے لیے تھا یا سماجی بہبود کے لیے یہ سوال اب بھی معلق ہے، مگر اس کے سیاسی اثرات نمایاں ہیں۔

نام نہاد ’مکھیہ منتری مہیلا روزگار اسکیم‘ کا آغاز بھی انتخابی شیڈول سے کچھ روز قبل ہوا اور اس کے تحت رقوم کی تقسیم انتخابی مدت کے دوران بھی جاری رہی۔ مرکزی وزیر داخلہ نے اسے قرض کے طور پر دی گئی رقم قرار دیا مگر خواتین میں بڑھتے مائیکرو فنانس جبر کے سبب نتیش کمار نے وضاحت کی کہ یہ قرض نہیں بلکہ بلاواپسی رقم ہے۔ اس کے ساتھ ہی 1,80,000 ’جیویکا رضاکاروں‘ کو انتخابی عملے میں شامل کرنے کا انکشاف مزید سوالات پیدا کرتا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *