ایران نے البانوی وزیراعظم کے الزامات مسترد کر دیے، عوامی احتجاج پر توجہ دینے کا مشورہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے البانیا کے وزیراعظم ایڈی راما کی جانب سے ایران کے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے ملک میں جاری عوامی احتجاج اور عوامی مطالبات پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔

اسماعیل بقائی نے منگل کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں البانوی وزیراعظم کے ایران مخالف بیانات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایڈی راما داخلی تنقید اور عوامی ناراضگی کا رخ بیرونی فریقوں کی جانب موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا، پرسکون ہو جائیں جناب وزیراعظم ایڈی راما، یہ معاملہ آپ ہی نے شروع کیا تھا، اس لیے اب آپ کو اس کے نتائج کا سامنا بھی کرنا چاہیے۔

بقائی نے مزید کہا کہ البانوی عوام ایک قدیم تہذیب اور قابل فخر تاریخ کے حامل ہیں اور وہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر البانوی حکومت اپنی قومی خودمختاری کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتی ہے تو یہ اس کا اپنا معاملہ ہے، تاہم عوامی غصے اور تنقید کا سامنا کرتے وقت دوسروں کو قربانی کا بکرا بنانا مناسب نہیں۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات پر مبنی طویل بیانات جاری کرنے کے بجائے البانوی وزیراعظم کو اپنے شہریوں کی آواز سننی چاہیے جو سڑکوں پر “بدعنوانی نہیں چاہیے”، “ہم انصاف چاہتے ہیں” اور “راما مستعفی ہو” جیسے نعرے لگا رہے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب البانیا کے وزیراعظم ایڈی راما نے ایکس پر جاری اپنے پیغام میں ایران پر آزادی کے خلاف رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

دوسری جانب البانیا کے دارالحکومت تیرانا میں کئی روز سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ہزاروں افراد وزیراعظم ایڈی راما کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین “البانیا فروخت کے لیے نہیں” کے نعرے کے تحت حکومتی پالیسیوں اور زویرنیک علاقے میں مجوزہ سرمایہ کاری منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جسے عوامی ناراضگی کا ایک اہم سبب قرار دیا جا رہا ہے۔

احتجاجی مظاہرین وزیراعظم ہاؤس کی جانب مارچ کرتے ہوئے “وقار اور شہری حقوق” کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں، جبکہ “ہماری آواز، ہمارا وقار، ہمارا مستقبل” جیسے نعرے بھی احتجاجی مہم کا نمایاں حصہ بنے ہوئے ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *