اردو، مراٹھی اور ہندی کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی

اردو، مراٹھی اور ہندی کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی

ہندستانی پرچار سبھا کا دورہ: سید حسین اختر کا لسانی و ثقافتی روابط مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار

 

ممبئی (نامہ نگار):لسانی یکجہتی، ادبی فروغ اور تہذیبی ہم آہنگی کے مقصد سے مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے چیئرمین سید حسین اختر نے اکیڈمی کے ایگزیکٹیو آفیسر شعیب ہاشمی کے ہمراہ 9 جون بروز منگل ہندستانی پرچار سبھا، واقع مہاتما گاندھی میموریل بلڈنگ، چرنی روڈ ممبئی کا خصوصی دورہ کیا،

 

جہاں ادارے کی مختلف علمی، ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی محترمہ ریٹا کمار اور شعبۂ اردو کی ذمہ دار شیریں دلوی نے وفد کا خیرمقدم کیا۔ شیریں دلوی نے سبھا کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والے ممتاز سہ ماہی ادبی جریدے’’ہندستانی زبان‘‘ کے اغراض و مقاصد اور ادبی خدمات کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔محترمہ ریٹا کمار نے ادارے کی مختلف سرگرمیوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہندستانی پرچار سبھا گزشتہ کئی دہائیوں سے ہندی اور اردو زبانوں کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ادارے کے تحت مختلف موضوعات پر سیمینار، علمی مذاکرے، خطابی و تحریری مقابلے اور تعلیمی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو اور ہندی زبان کی باقاعدہ کلاسیں بھی چلائی جاتی ہیں

 

جن سے طلبہ اور زبان سے دلچسپی رکھنے والے افراد مستفید ہو رہے ہیں۔اس دورے کے دوران وفد نے ادارے کی وسیع و عریض لائبریری کا بھی جائزہ لیا، جہاں لائبریری کنسلٹنٹ راجیو جوشی اور لائبریرین روہنی نے موجود کتب، ریڈنگ روم اور تحقیقی سہولیات کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ راجیو جوشی نے بتایا کہ لائبریری میں مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لیے معیاری کتابوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے، جبکہ طلبہ، محققین اور علمی ذوق رکھنے والے افراد کے لیے ریڈنگ روم کی سہولت بھی دستیاب ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس علمی مرکز میں ہندی، مراٹھی، اردو، انگریزی اور فارسی سمیت مختلف زبانوں کی پچاس ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں، جو اسے ممبئی کے اہم علمی و تحقیقی مراکز میں شامل کرتی ہیں۔

 

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سید حسین اختر نے کہا کہ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی اور ہندستانی پرچار سبھا کے درمیان اشتراک و تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور مشترکہ طور پر ایسے ادبی، تعلیمی اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے جو مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے درمیان قربت پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ ہندستانی پرچار سبھا کی لائبریری ایک قیمتی علمی سرمایہ ہے اور اکیڈمی کی جانب سے طلبہ، نوجوانوں اور محققین کو اس سے وابستہ کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ نئی نسل مطالعے کی طرف راغب ہو اور علمی و ادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔سید حسین اختر نے مزید کہا کہ اردو، مراٹھی اور ہندی صرف زبانیں نہیں بلکہ ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت کی علامت ہیں۔

 

ان زبانوں کے درمیان رشتوں کو مضبوط بنانے اور لسانی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مل جل کر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ دونوں اداروں کے درمیان مستقبل میں ہونے والا تعاون زبان و ادب کے فروغ اور قومی یکجہتی کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *