مودی حکومت کے 12 سال: دعوے بہت، حساب صفر! راجیو گوڑا کا سخت حملہ، اُجولا سے معیشت تک حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا

راجیو گوڑا نے کہا کہ مودی حکومت نے ہندوستان کو روزگار پیدا کرنے کا عالمی مرکز بنانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج 10 میں سے 4 گریجویٹ بے روزگار ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر راجیو گوڑا میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے، ویڈیو گریب</p></div><div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر راجیو گوڑا میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے، ویڈیو گریب</p></div>

i

user

google_preferred_badge

کانگریس کے سینئر لیڈر اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین راجیو گوڑا نے مودی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں حکومت نے بڑے بڑے دعوے، دلکش نعرے اور پرکشش تشہیر تو کی، لیکن زمینی حقیقت ان دعوؤں کے بالکل برعکس ہے۔

راجیو گوڑا نے کہا کہ مودی حکومت نے اب ’اُجولا یوجنا‘ کے تحت مستفید خاندانوں کو فراہم کیے جانے والے ایل پی جی سلنڈروں کی تعداد 9 سے کم کر کے 4 کر دی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 10 سال قبل یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ملک کی خواتین کو دھوئیں اور خطرناک ایندھن سے نجات دلائی جائے گی اور ہر مستفید خاندان کو سالانہ 12 سلنڈر فراہم کیے جائیں گے۔ بعد میں یہ تعداد گھٹا کر 9 کر دی گئی اور اب صرف 4 سلنڈر رہ گئے ہیں۔ وزیراعظم کے طور پر تیسری بار حلف لینے کی سالگرہ کے دن خواتین اور غریب خاندانوں کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے۔

معیشت پر سوال

راجیو گوڑا نے حکومت کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ ہندوستان دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کبھی چوتھی بڑی معیشت تھا، لیکن روپے کی کمزوری کے باعث اب چھٹے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ یہ وزیراعظم نریندر مودی کی معاشی پالیسیوں پر عوامی فیصلہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کے دور میں روپیہ ایشیا کی کمزور ترین کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شامل ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان واقعی دنیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی معیشت ہے تو پھر غیر ملکی سرمایہ کار ملک سے سرمایہ کیوں نکال رہے ہیں اور نئی سرمایہ کاری سے گریز کیوں کر رہے ہیں؟

مہنگائی پر حکومت کو گھیرا

کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت نے کبھی دعویٰ کیا تھا کہ ایل پی جی، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا، لیکن آج گیس سلنڈر، پٹرول، ڈیزل، دودھ اور دالوں کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق یو پی اے حکومت کے دور میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمت تقریباً 410 روپے تھی، جبکہ آج مودی حکومت میں یہی سلنڈر 913 روپے تک پہنچ چکا ہے۔

بے روزگاری اور خواتین کی حالت

راجیو گوڑا نے کہا کہ مودی حکومت نے ہندوستان کو روزگار پیدا کرنے کا عالمی مرکز بنانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج 10 میں سے 4 گریجویٹ بے روزگار ہیں۔ شہری نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 18.4 فیصد ہے اور صرف 7 فیصد بے روزگار گریجویٹس کو ایک سال کے اندر مستقل تنخواہ والی ملازمت مل پاتی ہے۔ خواتین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مساوی مواقع فراہم کرنے کے دعوے کے باوجود ہندوستان عالمی جینڈر گیپ انڈیکس میں 108ویں مقام سے گر کر 131ویں مقام پر پہنچ گیا ہے، جو خواتین کو مواقع فراہم کرنے میں ناکامی کی علامت ہے۔

ایم ایس ایم ای سیکٹر بحران کا شکار

راجیو گوڑا نے کہا کہ حکومت چھوٹے اور متوسط کاروباروں (ایم ایس ایم ای) کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتی ہے، لیکن گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 40 ہزار ایم ایس ایم ای یونٹ بند ہو گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نوٹ بندی کے منفی اثرات آج بھی اس شعبے کو متاثر کر رہے ہیں۔

کسانوں کی حالت اور خراب خارجہ پالیسی

راجیو گوڑا نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کے گزشتہ دس برسوں میں اوسطاً ہر گھنٹے ایک کسان یا زرعی مزدور خودکشی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی قرضوں کا بوجھ بڑھ کر 33.5 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ حکومت زرعی آمدنی میں اضافے کے دعوے کرتی رہی ہے۔ ہندوستان کو ’وشو گرو‘ قرار دینے کے حکومتی دعوے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان بھاری محصولات (ٹیرف) اور بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس صورت حال کا ہندوستان کی خودمختاری اور ایران جیسے دیرینہ شراکت دار ممالک کے ساتھ تعلقات پر کیا اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کی “میلوڈی ڈپلومیسی” کا نتیجہ یہی نکلا ہے کہ تصویری مواقع تو بہت ملے، لیکن قومی مفادات کا خاطر خواہ تحفظ نہیں ہو سکا۔

جمہوریت، انتخابات اور تعلیمی نظام پر سوال

راجیو گوڑا نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں تقریباً 6.5 کروڑ ووٹروں کے نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیے گئے ہیں، جو جمہوریت کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق ہندوستانی جمہوریت کئی بنیادی خامیوں کا شکار ہو چکی ہے۔ تعلیم کے شعبہ میں حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں 89 پرچہ لیک ہونے کے واقعات اور 48 دوبارہ امتحانات منعقد کرانے پڑے، جو نظام تعلیم کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔

منی پور اور داخلی امن

کانگریس رہنما نے منی پور کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 60 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، 260 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں اور تشدد اب تک ختم نہیں ہوا، جبکہ حکومت امن و ہم آہنگی کے دعوے کرتی ہے۔ علاوہ ازیں اسمارٹ سٹی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے راجیو گوڑا نے کہا کہ متعدد منصوبے تعطل کا شکار ہیں، جبکہ گرمی اور آلودگی کے بحران میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ریلوے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق ریلوے پٹریوں اور احاطوں میں 22,400 جانیں ضائع ہوئیں۔ ’کَوچ‘ حفاظتی نظام اب تک صرف 2 فیصد ریلوے پٹریوں پر نافذ کیا گیا ہے، جبکہ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت 1,337 اسٹیشنوں میں سے صرف 172 اسٹیشن مکمل ہو سکے ہیں۔

منریگا کو کمزور کرنے کا الزام

راجیو گوڑا نے کہا کہ یو پی اے حکومت نے منریگا جیسا پروگرام متعارف کرایا تھا، جو بحران کے وقت غریبوں کے لیے آمدنی کی ضمانت تھا، لیکن مودی حکومت نے اس پروگرام کو کمزور کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے غریبوں کے تحفظ کے بجائے ان کے معاشی سہاروں کو کمزور کیا ہے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر کانگریس رہنما نے کہا کہ مودی حکومت کے 12 سالہ دور میں تشہیر اور دعووں کی کوئی کمی نہیں رہی، لیکن عوام کی زندگیوں میں حقیقی اور مثبت تبدیلی کے شواہد نہایت محدود ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو اپنے دعوؤں کے بجائے زمینی حقائق کا جواب دینا چاہیے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *