ایران اور لبنان کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کا مقصد نیتن یاہو کی سیاسی بقا ہے، صہیونی میڈیا

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار ہارٹز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہمہ گیر جنگ دوبارہ شروع کرنے اور لبنان پر حملوں میں اضافے کی کوششوں کے پس پردہ مقصد داخلی سیاسی بحران سے نکلنا اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی اقتدار میں بقا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کو حالیہ عوامی جائزوں میں اپنے سیاسی حریف اور سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے مقابلے میں کم عوامی حمایت حاصل ہے۔ مختلف سرویز سے یہ اشارہ ملا ہے کہ اگر آئندہ دنوں میں انتخابات منعقد ہوں تو نیتن یاہو کو اقتدار سے محروم ہوسکتے ہیں۔

اسی تناظر میں اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے خبردار کیا ہے کہ اگر نیتن یاہو کو آئندہ انتخابات میں شکست کا خدشہ ہوا تو وہ غیر معمولی اقدامات کر سکتے ہیں۔ نیتن یاہو انتخابی عمل کو متاثر کرنے، ہنگامی حالت نافذ کرنے یا کسی نئے محاذ پر کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ انتخابات کو مؤخر کیا جا سکے۔

ایہود باراک نے کہا کہ اگر نیتن یاہو کو اپنی شکست یقینی محسوس ہوئی تو وہ ایران، غزہ یا مغربی کنارے میں ایک نئی کشیدگی کو ہوا دے سکتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کا مقصد داخلی سیاسی بحرانوں، عدالتی مقدمات اور عوامی دباؤ سے توجہ ہٹانا ہو سکتا ہے۔

باراک نے مزید الزام عائد کیا کہ نیتن یاہو نے لبنان کے ساتھ ممکنہ امن معاہدوں اور غزہ میں قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات میں بھی رکاوٹیں پیدا کیں تاکہ جنگی صورتحال برقرار رہے اور ان کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہو سکے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر نیتن یاہو کو بڑھتی ہوئی تنقید اور داخلی سطح پر کمزور ہوتی عوامی حمایت کا سامنا ہے، جس کے باعث بعض مبصرین موجودہ علاقائی کشیدگی کو اسرائیل کی داخلی سیاست سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *