امیتابھ دوبے کے مطابق نریندر مودی نے کہا تھا کہ لوگوں کو مہنگائی سے راحت ملے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ 2014 سے اب تک ایل پی جی کی قیمت میں 123 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
i
کانگریس نے مودی حکومت کے 12 سالہ دور اقتدار کی ناکامی کو شمار کرانے کے لیے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے اے آئی سی سی میڈیا کی تحقیق اور نگرانی کے انچارج امیتابھ دوبے نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے آج اہل وطن کو تحفہ دیا ہے۔ اب اجولا یوجنا کے تحت لوگوں کو سبسڈی والے صرف 4 سلنڈر ملیں گے، جبکہ پہلے 9 سلنڈر ملا کرتے تھے۔ اس سے لوگوں کے لیے چولہا جلانا تک مشکل ہو جائے گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے ایک دعوے میں کہا تھا کہ ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنے گی اور 2024 تک 5 ٹریلین ڈالر کی اکانومی بن جائے گی۔ لیکن آج حقیقت یہ ہے کہ 4 ٹریلین ڈالر سے کم کی اکانومی ہو گئی ہے اور ہندوستان چھٹی معیشت پر کھسک گیا ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر مزید کہتے ہیں کہ ’’ڈالر کے مقابلے روپیہ مسلسل گر رہا ہے، جس کا براہ راست اثر ہندوستان کی معیشت پر پڑ رہا ہے اور ایک گہرا معاشی بحران پیدا ہو رہا ہے۔ حال ہی میں جی ڈی پی کا گروتھ ریٹ 7.7 فیصد بتایا گیا تھا، لیکن ملک پھر بھی جی ڈی پی ٹارگٹ حاصل کرنے میں مسلسل ناکام ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار باہر جا رہے ہیں۔ خود ہندوستان کے صنعت کار ملک کے بجائے بیرون ملک سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ملک کی معیشت پر مودی حکومت کی پالیسیوں کا اثر ہے۔‘‘
امیتابھ دوبے کے مطابق نریندر مودی نے کہا تھا کہ:
-
لوگوں کو مہنگائی سے راحت ملے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ 2014 سے اب تک ایل پی جی کی قیمت میں 123 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پٹرول کی قیمت 44 فیصد اور ڈیزل کی قیمت 73 فیصد بڑھی ہے۔ دودھ کی قیمت 71 فیصد اور دال کی قیمت میں 84 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
-
ہندوستان کو دنیا میں روزگار کا مرکز بنا دیں گے، جبکہ سچائی یہ ہے کہ 10 میں سے 4 نوجوان بے روزگار ہیں۔ 18.4 فیصد شہری نوجوان بے روزگار ہیں۔
-
ایم ایس ایم ایز کو لے کر نریندر مودی نے کئی دعوے کیے تھے، مگر سچائی یہ ہے کہ پچھلے سال 40 ہزار ایم ایس ایم ایز بند ہو گئے۔
-
کسانوں کی آمدنی دوگنی کریں گے، جبکہ سچائی یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال میں 1.9 لاکھ کسانوں نے خودکشی کی ہے، یعنی اوسطاً ہر گھنٹے ایک کسان خودکشی کرتا ہے۔
-
ہندوستان کو وِشو گرو بنایا جائے گا، لیکن آپ سب بھی دیکھ رہے ہیں کہ آج کیا حالات ہیں اور دنیا کے ایک حصے میں جاری جنگ کا ہندوستان پر کتنا اثر پڑ رہا ہے۔
-
ہندوستان کھاد کی پیداوار میں خود کفیل ہونے والا ہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ ایل این جی کی پیداوار 25 فیصد کم ہو گئی ہے اور یوریا کی پیداوار کافی حد تک گھٹ گئی ہے۔
اے آئی سی سی میڈیا کی تحقیق اور نگرانی کے انچارج امیتابھ دوبے نے کہا کہ ’’مودی حکومت نے کہا تھا کہ تعلیم کے نظام کو جدید بنایا جائے گا، جبکہ سچائی یہ ہے کہ مسلسل پیپر لیک ہو رہے ہیں۔ سی بی ایس ای کے او ایس ایم سسٹم نے طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے اور ٹینڈرنگ کے عمل میں بھی گھپلا ہوا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اب تک 89 پیپر لیک ہوئے ہیں اور 48 بار دوبارہ امتحانات ہو چکے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے فوری طور پر استعفیٰ دیں۔‘‘
کانگریس لیڈر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’نریندر مودی نے کہا تھا کہ جمہوریت کو مضبوط کریں گے، لیکن راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی نے صاف دکھایا ہے کہ کیسے بی جے پی نے الگ الگ ریاستوں میں ’ووٹ چوری‘ کر کے حکومت بنائی ہے۔ جب ’ووٹ چوری‘ کرتے پکڑے گئے تو نریندر مودی نے اپنے لوگوں کو الیکشن کمیشن میں بٹھا دیا اور ایس آئی آر کر کے لوگوں کا نام ووٹر لسٹ سے کاٹنے لگے۔‘‘ امیتابھ دوبے نے مزید کہا کہ ’’منی پور میں گزشتہ 3 سال سے تشدد جاری ہے، وہاں سینکڑوں لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور 60 ہزار لوگ بے گھر ہو گئے، لیکن ذمہ داری لینے کے وقت نریندر مودی غائب ہو جاتے ہیں۔‘‘
پریس کانفرنس کے دوران امیتابھ دوبے نے یاد دلایا کہ ’’مودی حکومت نے کہا تھا کہ انفراسٹرکچر کو مضبوط کریں گے، لیکن سچائی یہ ہے کہ آج ملک میں لوگ شدید گرمی اور آلودگی سے پریشان ہیں، کیونکہ یہ حکومت مسلسل جنگلات کو تباہ کر رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی اسمارٹ سٹی کی بات کرتے تھے، لیکن آج لوگوں کو اسمارٹ سٹی کہیں دکھائی ہی نہیں دے رہا۔ مودی حکومت ریلوے کو لے کر خوب تشہیر کرتی ہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ ٹرینوں میں بھاری بھیڑ ہوتی ہے، ٹرینیں تاخیر سے چلتی ہیں اور ریلوے میں حفاظت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر مزید کہتے ہیں کہ ’’این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق ریلوے ٹریک پر 22,413 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ 25-2024 میں 31 بڑے ریل حادثات ہوئے ہیں اور صرف 2 فیصد ٹریک پر ہی ’کَوَچ‘ سسٹم نافذ ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

