اسرائیل اور امریکہ ایران کو علاقائی طاقت بننے سے روکنا چاہتے ہیں، صہیونی سفیر کا اعتراف

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر یخیل لائٹر نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے خطے میں مشترکہ اہداف ہیں اور دونوں ایران کو ایک غالب علاقائی طاقت بننے سے روکنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ واشنگٹن اور تل ابیب قریبی تعاون کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ ایران خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید نہ بڑھا سکے۔ لائٹر کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان گہمی تعلقات، قریبی رابطہ کاری اور باہمی ہم آہنگی موجود ہے۔

اسرائیلی سفیر نے لبنان کے مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران لبنان کے معاملے کو امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اسرائیل اس دونوں امور کے درمیان کسی قسم کے تعلق کو تسلیم نہیں کرتا۔ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے کردار کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسی صورتحال کی اجازت دے گا جس میں حزب اللہ اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کرے۔

یخیل لائٹر نے مزید دعوی کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشیدگی میں کمی کے خواہاں ہیں اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔ 

اسرائیلی سفیر نے یہ بھی کہا کہ تل ابیب کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا ایران سے کوئی تعلق نہیں اور تہران کو لبنان کے معاملات سے دور رہنا چاہیے، جبکہ ایران اور مزاحمتی حلقے لبنان کی صورتحال کو خطے کی وسیع تر سکیورٹی اور سیاسی صورتحال سے جوڑتے ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *